اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 123 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 123

123 سب مومن تھے، تو کافر تھا یہ بھی اک طرفہ چکر تھا گھر کے اندر بھی اک گھر تھا جس کے ڈھے جانے کا ڈر تھا تُو ہی تھا گھر کا دروازہ تُو ہی کونے کا پتھر تھا تو ہی تھا آواز کا مبیط تو الفاظ کا نامہ بر تھا ڈھونڈنے نکلے تھے ہم جس کو نام پتا اس کا ازبر تھا ہم نے پھینک دیا تھا باہر عقل کا جو میلا بستر تھا باہر لمحوں کا لشکر تھا اندر صدیاں سوچ رہی تھیں اپنے بھی تھے، بیگانے بھی جو بھی تھا مجھ سے بہتر تھا جیسا بھی تھا ، جتنا بھی تھا آخر میں تیرا مظہر تھا اونچے محل مناروں والا اپنے گھر میں بھی بے گھر تھا شہر ذات کا رہنے والا اپنی ذات سے ہم بستر تھا لفظوں کے لب سوکھ گئے تھے کاغذ کا سینہ بنجر تھا دشت نجف تھا اور سناٹا اک لاشہ تھا اور بے سر تھا اتنا ہننے والے کو جب چھو کر دیکھا تو پتھر تھا رات ملا تھا جو مضطر نام تو اس کا بھی مضطر تھا