اشکوں کے چراغ — Page 122
122 نہ اتراؤں میں کیوں سولی پر چڑھ کر عطا کردہ ہے یہ اعزاز تیرا سمجھتا کیوں نہیں ہے میرا قاتل غضب کتنا ہے بے آواز تیرا کہاں جائے گا آدھی رات مضطر ! اگر ہو گا نہیں در باز تیرا
by Other Authors
122 نہ اتراؤں میں کیوں سولی پر چڑھ کر عطا کردہ ہے یہ اعزاز تیرا سمجھتا کیوں نہیں ہے میرا قاتل غضب کتنا ہے بے آواز تیرا کہاں جائے گا آدھی رات مضطر ! اگر ہو گا نہیں در باز تیرا