اشکوں کے چراغ — Page 121
121 ہے سارا سوز ، سارا ساز تیرا پس پردہ ہے سب اعجاز تیرا اگرچہ تو ہی اوّل، تُو ہی آخر کوئی انجام نہ آغاز تیرا تو ہر اک کا ہے محرم اور ہمراز نہیں کوئی مگر ہم راز تیرا کروں تو میں کروں تجھ سے محبت اٹھاؤں تو اٹھاؤں ناز تیرا نہیں مظہر نہیں ہے میرے غم کا یہ آنسو ہے فقط نماز تیرا نہیں ہے یہ صدا مجھ بے صدا کی ہے سب پیش و پس آواز تیرا مری پرواز بھی پرواز تیری کہ میں تیرا ، پر پرواز تیرا