اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 120 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 120

120 گفتگو کب کی بند ہے اب تو وہ بڑا عقل مند ہے اب تو پہلے اک دل رُبا تبسم تھی زندگی زہر خند ہے اب تو پھر سر شاخ لہلہانے لگا گل کا پرچم بلند ہے اب تو وہ جو کل تک تھے جان کے دشمن ان کو مضطر پسند ہے اب تو