اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 96 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 96

96 90 مرے آڑے آیا پتھر ٹکرایا رووے شہروں میں ہمسایہ بن میں کلی کلی لفظوں کی چھائی اندھیاری پاس بلا لو کرشن مراری شور کرے بیتا کی ماری پہنچو مہابلی بن تیرے اب کون سہارا اپنوں نے اپنوں کو مارا مولا ! یہ جیتے ، میں بارا جیت سے ہار بھلی تنہائی مت گھبراؤ ہو آؤ کوچہ جاناں سے اچھلو، گودو، ناچو، گاؤ بولو علی علی * شاہوں کی سرکار تمھی بے یاروں کے یار تمھی کشتی تم، پتوار تمھی تم مضطر کے ولی (۱۹۵۳ء)۔۔۔علی اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ہو ہو ہو