اشکوں کے چراغ — Page 97
40 97 وصل کے دن ہیں، رُت ہے الفت کی عشق کی، پیار کی ، محبت کی تیرے کہلائے ، تجھ سے نسبت کی ہم نے کیا کیا نہیں جسارت کی تجھ کو چاہا، تری عبادت کی تیری جانب کی جب بھی ہجرت کی یہ امانت جو ہے امامت کی حسن سیرت کی، حسن صورت کی یہ علامت ہے تیری قدرت کی ہم مریضوں کے غسل صحت کی مصحف رُخ کی بھی تلاوت کی سیر کی ایک ایک آیت کی آنسوؤں نے اگر رفاقت کی ڈھل ہی جائے گی گرد غفلت کی میں کہ ہوں اک پرانا ناشکرا مجھ پر برسیں گھٹائیں شفقت کی چاند نے رات چاندنی بخشی اپنی تصویر بھی عنایت کی ق تم بھی آئے ہو اپنے مطلب سے بات ہم نے بھی کی ہے مطلب کی سچ کو سچ جانا اور جھوٹ کو جھوٹ ہم نے کی بھی تو یہ سیاست کی تاج ہم نے پہن کے کانٹوں کا بر سر دار استراحت کی تم نے اس کو بھی کاٹنا چاہا یہ جو انگشت ہے شہادت کی گپ اندھیرا ہے اور غضب کا ہے روشنی بھی ہے اور قیامت کی آسماں سے برس رہی ہے آگ دھوپ بھی پڑ رہی ہے شدت کی