اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 513 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 513

513 گا حسن مجبور ہو گیا ہو گا یعنی مستور ہو گیا ہو گا عشق بدنام ہو گیا ہو گا اور مشہور ہو گیا ہو کٹ گئی ہوگی پھول سی گردن وار بھر پور ہو گیا ہو گا کوئی الزام تو لگا ہو گا کچھ تو مشہور ہو گیا ہو گا دور تھا آسمان پہلے ہی اور بھی دور ہو گیا ہو گا وہ پرانا مطالبہ دل کا اب تو منظور ہو گیا ہو گا معجزہ اُن کے لوٹ آنے کا چشم بد دور! ہو گیا ہو گا اُن کی ہلکی سی مسکراہٹ سے درد کافور ہو گیا ہو گا گر گیا ہو گا اپنی نظروں میں اشک مغرور ہو گیا ہو گا روح اصرار کر رہی ہو گی جسم مجبور ہو گیا ہو گا بڑھ گیا ہو گا ہجر کا آزار زخم ناسور ہو گیا ہو گا چاند نکلا تو ہر طرف مضطر! نور ہی نور ہو گیا ہو گا (نومبر ، ۱۹۹۶ء)