اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 514 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 514

514 آپ اگر بدگمان اتنے ہیں کس لیے مہربان اتنے ہیں یہ شریفوں کا شہر ہے پیارے! آپ کیوں بد زبان اتنے ہیں اتنے معصوم ہو تو دامن پر داغ کیوں میری جان ! اتنے ہیں بولنا بھی انھیں سکھا دیجے یہ جو اہل زبان اتنے ہیں صلح کیسے ہو عقل کی دل سے فاصلے درمیان اتنے ہیں اے زمان و مکان کے مالک! آپ کیوں لا مکان اتنے ہیں ختم ہونے میں ہی نہیں آتے عشق کے امتحان اتنے ہیں لطف وجود و کرم کے فرقت کے راہ میں سائبان اتنے ہیں کہیں ربوہ ہے اور کہیں لندن ہر طرف قادیان اتنے ہیں وصل در وصل، ہجر اندر ہجر جان ہے تو جہان اتنے ہیں چین سے کٹ رہی ہے زیر زمیں سر پہ بھی آسمان اتنے ہیں ”چاند چہرہ ستارہ آنکھیں“ لوگ حسن کے ترجمان اتنے ہیں عشق کا ایک ہی قبیلہ ہے عقل کے خاندان اتنے ہیں بولتے کس لیے نہیں مضطر! آپ کیوں بے زبان اتنے ہیں