اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 512 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 512

512 کہیں گرنا ، کہیں سنبھلنا تھا یہ رفاقت تو عمر بھر کی تھی کام اپنا مدام چلنا تھا عمر بھر ساتھ ساتھ چلنا تھا ان کے کاٹے کا کچھ علاج نہیں آنسوؤں کو نہیں نگلنا تھا اپنے ہمراہ کس طرح چلتے تیرے ہمراہ بھی تو چلنا تھا لفظ یخ بستہ ہو گئے تھے اگر تم کو لہجہ نہیں بدلنا تھا اشک سے بھی نہیں گلہ کوئی یہ ستارہ کبھی تو ڈھلنا تھا پھول تھا وہ تو اس کو پت جھڑ میں گھر سے باہر نہیں نکلنا تھا یہ جو تازہ ہوا کا جھونکا تھا اس کو طوفاں کا رُخ بدلنا تھا با کجھ تھا وہ درخت نفرت کا پھولنا تھا اسے نہ پھلنا تھا ہم بدلتے تو کوئی بات بھی تھی تم کو مضطر! نہیں بدلنا تھا