اشکوں کے چراغ — Page 504
504 اس کی خاطر تاج پہن کر کانٹوں کا لذت کی سولی پر بیٹھا لگتا ہوں مجھ کو بھی دو گھونٹ عطا ہوں شبنم کے صحرا ہوں اور کتنا پیاسا لگتا ہوں لگتا ہے یہ گلیاں دیکھی بھالی ہیں پہلے بھی اس شہر میں آیا لگتا ہوں مضطر! میں تخلیق ہوں اپنے خالق کی وہ جانے میں اس کو کیسا لگتا ہوں