اشکوں کے چراغ — Page 505
505 کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ لکھا ہوا ہے تو چہرے پر ہے اس کے شکر یہ لکھا ہوا یہ جو اس کے لب پہ ہے حرفِ دعا لکھا ہوا كاتب تقدیر نے ہے معجزہ لکھا ہوا آسماں پر ہو چکا تھا فیصلہ اس کے خلاف وہ جو تھا اہل زمیں نے فیصلہ لکھا ہوا کوئی تو نازک بدن محو خرامِ ناز ہے ذرے ذرے پر ہے جس کا نقش پا لکھا ہوا دیکھنے ہم بھی گئے تھے مشہد ہجر و فراق ایک ہی عہدِ وفا تھا جا بجا لکھا ہوا ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو شہر جسم و جان میں تھا در و دیوار پر اس کا پتا لکھا ہوا آہ وہ اشک ندامت جو اندھیری رات میں ایک آیت کی طرح پلکوں پہ تھا لکھا ہوا