اشکوں کے چراغ — Page 503
503 لگتا ہوں سوچتا ہوں تو تنہا تنہا کھویا کھویا ، بکھرا بکھرا لگتا ہوں گر جاؤں تو بے حیثیت آنسو ہوں رک جاؤں تو بے اندازہ لگتا ہوں ناداں ہوں ، نالائق ہوں اور بے ہنرا جانے کیوں میں اس کو اچھا لگتا ہوں وہ ستچا ہے، کتنا سچا لگتا ہے میں جھوٹا ہوں ، کتنا جھوٹا لگتا ہوں جب سے دیکھا ہے وہ اتنا اونچا ہے پہلے سے بھی بڑھ کر چھوٹا لگتا ہوں دن اس کے اس ہنستی بستی دُنیا میں اپنا لگتا لگتا ہوں ہوں نہ پرایا میرا اس کا ساتھ ہے چولی دامن کا وہ میرا ہے اور میں اس کا لگتا ہوں