اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 8 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 8

8 وہی لباس، وہی خدوخال ہیں اس کے وہ ایک پھول ہے خوشبو کے آبگینوں میں کبھی تو اس سے ملاقات ہو گی جلسے پر کبھی تو آئے گا وہ وصل کے مہینوں میں صلیب عشق پہ چڑھنے کی دیر تھی مضطر ! وہ پھول برسے، گڑھے پڑ گئے زمینوں میں