اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 7 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 7

7 گھر اہوا تھا میں جس روز نکتہ چینوں میں بے لحاظ کھڑا تھا تماش بینوں میں وہ وہ کشمکش ہوئی انکار کے قرینوں میں رہا نہ فرق شریفوں میں اور کمینوں میں مری خبر سرِ اخبار چھاپنے والا ملا تو ڈوب گیا شرم سے پسینوں میں وہ اپنے عہد کی آواز کا ڈرایا ہوا کھڑا تھا صورتِ دیوار ہم نشینوں میں نحیف روح بلکتی رہی کنارے پر بدن کا بوجھ بہا لے گئے سفینوں میں ق یکس کے عکس کی آہٹ مکان میں آئی یہ کون ہولے سے اترا ہے دل کے زینوں میں