اشکوں کے چراغ — Page 9
9 مصروف ہے سینوں میں اک آذر پوشیدہ کچھ بت ہیں تراشیدہ ، کچھ غیر تراشیده ان عقل کے اندھوں کو اللہ ہدایت دے جو کام کیا الٹا ، جو بات کی پیچیدہ ڈر ہے تو یہی ان کو، بیدار نہ ہو جائے مخلوق خدا کی جو مدت سے ہے خوابیدہ ق اس حسن مجسم نے مسحور کیا سب کو اپنے بھی غلام اس کے، بیگانے بھی گرویدہ اس جانِ تمنا کو، اس غیرت محفل کو چاہا بھی تو در پرده ، دیکھا بھی تو دزدیده تعریف سے بالا ہے، توصیف سے مستغنی ہر بات حسیں اس کی ، ہر کام پسندیدہ تھا شور بپا اتنا کل بزم نگاراں میں جب ذکر چھڑا اس کا سب ہو گئے سنجیدہ