اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 485 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 485

485 پس لمحہ جو لمحہ سو رہا ہے یہ سب کچھ اس کی خاطر ہو رہا ہے جسے تم کہہ رہے ہو عہدِ رفتہ وہ رفتہ رفتہ زندہ ہو رہا ہے اسی کا نام ہے شاید محبت یونہی جو سانحہ سا ہو رہا ہے گئی ہے ماں کہیں محفل سجانے مگر بچہ اکیلا سو رہا ہے نظر آنے لگے ہیں چاند چہرے قفس میں کوئی تارے بو رہا ہے جو کھویا تھا اسے پانے کی خاطر جو پایا تھا اسے بھی کھو رہا ہے لہو کے داغ ہیں جو آستیں انھیں اپنے لہو میں دھو رہا ہے