اشکوں کے چراغ — Page 484
484 فاصلے ان کے ہمارے درمیاں کہنے کو ہیں لوگ اس نامہرباں کو مہرباں کہنے کو ہیں گھر کے سناٹوں سے محو گفتگو ہیں آہٹیں یہ مکاں خالی نہیں، خالی مکاں کہنے کو ہیں منزلیں کم ہو گئیں، رہتے اکیلے رہ گئے یہ جو قدموں کے نشاں سے ہیں ، نشاں کہنے کو ہیں کچھ بزرگوں کا ادب باقی نہ چھوٹوں کا لحاظ یہ ادب آداب کی باتیں میاں! کہنے کو ہیں ایک ہی حسرت تھی منظر اوہ بھی پوری ہوگئی حسرتوں کے کارواں در کارواں کہنے کو ہیں