اشکوں کے چراغ — Page 486
486 اگر چہ منہ سے کچھ کہتا نہیں ہے اسے معلوم ہے جو ہو رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو بن جائے پتھر کہ ہنستا ہے نہ پاگل رو رہا ہے سوا نیزے پہ آ پہنچا ہے سورج دل نادان پھر بھی سو رہا ہے
by Other Authors
486 اگر چہ منہ سے کچھ کہتا نہیں ہے اسے معلوم ہے جو ہو رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو بن جائے پتھر کہ ہنستا ہے نہ پاگل رو رہا ہے سوا نیزے پہ آ پہنچا ہے سورج دل نادان پھر بھی سو رہا ہے