اشکوں کے چراغ — Page 467
467 تم نے اگر نہ پھول کی حرمت بحال کی اُٹھ جائے گی جہان سے خوشبو کی پالکی توصیف کیا کرے گا ترے ماہ و سال کی جس نے کبھی نہ کھائی ہو روزی حلال کی میونزم تشبیہ اور حضور کے حسن و جمال کی! یعنی مثال ہی نہ ہو جس بے مثال کی جس کے کمال کو نہیں خطرہ زوال کا ہم بات کر رہے ہیں اسی لازوال کی وہ گل سدا بہار ہے، موسم کوئی بھی ہو فرقت کی ہو دے فصل کہ رت ہو وصال کی واللہ ! بے مثال تھا جو کام بھی کیا ” جو بات کی، خدا کی قسم! بے مثال کی“ رہ جائیں گے ٹھٹھر کے ترے پاشکستگاں شدت اگر نہ کم ہوئی باد شمال کی