اشکوں کے چراغ — Page 468
468 بچ کر نکل نہ جائے سفینہ مراد کا طوفان کو خلش ہے اسی احتمال کی اس نے تو مجھ کو زندہ جاوید کر دیا یہ جو خبر اڑی ہے مرے انتقال کی اس میں نہ تھا قصور فقط باغبان کا تقصیر پات پات کی تھی، ڈال ڈال کی مرجھا نہ جائے پیٹر کہیں انتظار کا اس کی نہ جسم و جاں سے اگر دیکھ بھال کی تنہائیوں کے اشک ندامت کا ذکر ہے ہے بات آدھی رات کے آب زلال کی میں ہوں تو صرف احمدی ہوں اور محمدی ہوں شافعی نہ حنبلی، حنفی نه مالکی یہ کیا کہ ملنے آئے ہو مضطر غریب سے صحبت میں جا کے بیٹھو کسی باکمال کی