اشکوں کے چراغ — Page 466
466 جہاں قرار ملا مجھ سے بے قراروں کو قرارگاه وہ دار السلام تیرا ہے سبھی حسین ترے حسن کے بھکاری ہیں کہ نا تمام ہیں اور حسن تام تیرا ہے ترا ہی چشمہ صافی ہے کوثر و تسنیم مئے طہور سے لبریز جام تیرا ہے عجب نہیں کہ خدا مہربان ہو جائے که ذکر میری زباں پر مدام تیرا ہے عجب نہیں ہے کہ مضطر کی لاج رہ جائے کہ بے ہنر تو ہے لیکن غلام تیرا ہے