اشکوں کے چراغ — Page 168
168 غم دیا، غم کا احترام دیا تو نے جو بھی دیا، دیا ہے بہت پھر کوئی حادثہ نہ ہو جائے آرزوؤں کا جمگھٹا ہے بہت یار! اتنے بھی ہم حقیر نہیں ہم نے مانا کہ تو بڑا ہے بہت عقل ناراض ہو گئی مضطر ! دل نادان بولتا ہے بہت
by Other Authors
168 غم دیا، غم کا احترام دیا تو نے جو بھی دیا، دیا ہے بہت پھر کوئی حادثہ نہ ہو جائے آرزوؤں کا جمگھٹا ہے بہت یار! اتنے بھی ہم حقیر نہیں ہم نے مانا کہ تو بڑا ہے بہت عقل ناراض ہو گئی مضطر ! دل نادان بولتا ہے بہت