اشکوں کے چراغ — Page 167
167 میں بُرا اور وہ بھلا ہے بہت میرے اللہ ! فاصلہ ہے بہت اچھا اچھا، بُرا بُرا ہے بہت اب تو آسان فیصلہ ہے بہت دیکھیے ! جیت کس کی ہوتی ہے میرا مجھ سے مقابلہ ہے بہت اجنبی اجنبی سا لگتا ہے یہ نیا گھر ابھی نیا ہے بہت ٹوٹ جائے نہ فرطِ لذت سے آئنہ مسکرا رہا ہے بہت کوئی صورت نظر نہیں آتی سر سے پانی گزر گیا ہے بہت ہم ترے عہد میں ہوئے پیدا ہم کو اتنا بھی واسطہ ہے بہت