اشکوں کے چراغ — Page 154
154 Javor اسے یہ ڈر ہے زمین پر آسماں گرے گا پرا بدل کے رکھ دے گا شکل وصورت جہاں گرے گا اپنی بانہوں میں اس کو بڑھ کر سنبھال لینا ہوا کے رخ پر جہاز کا بادباں گرے گا نجات مل جائے گی سفر کی صعوبتوں سے سمندروں میں سراب عمر رواں گرے گا تو دیکھے گا اپنی صورت کو آئنے میں کبھی تو اپنی نظر میں وہ بدگماں گرے گا خدا کرے آسماں کا خیمہ رہے سلامت مکین بھی اب تو کہہ رہے ہیں مکاں گرے گا بس ایک ہلکا سا لمس درکار ہے نظر کا منافرت کا مجسمہ ناگہاں گرے گا بدن کی اس آگ کو جلاتے رہو عزیزو! تمھارے اوپر ہی پھر پھرا کر دُھواں گرے گا پکڑنے والے بھی منتظر ہیں چھتوں پہ مضطر ! کہ یہ پرندہ گرا تو اب نیم جاں گرے گا