اشکوں کے چراغ — Page 153
153 تم کو بھی کوئی بددعا لگتی تم بھی کہتے کبھی کبھی خدا خدا لگتی حسرتوں کا شمار بھی ہوتا یہ نمائش بھی اے خدا! لگتی بات کرتے اگر حوالے سے نئی بات آشنا لگتی ہر کس قدر جبس ہے سرِ مقتل! ابر کھلتا تو کچھ ہوا لگتی ناخدا! اس میں تیرا کیا جاتا میری کشتی کنارے جا لگتی دل کی دتی اُجڑ گئی مضطر ! پھول والوں کی کیا صدا لگتی (۱۹۸۳ء)