اشکوں کے چراغ — Page 152
152 آنکھ سے آنکھ تک چراغ جلے شہر کا شہر جگمگانے لگا جو مسلط رہا تھا سال ہا سال نام تک اس کا بھول جانے لگا دل تشکر کے جشن میں مضطر ! فرط لذت سے جھوم جانے لگا
by Other Authors
152 آنکھ سے آنکھ تک چراغ جلے شہر کا شہر جگمگانے لگا جو مسلط رہا تھا سال ہا سال نام تک اس کا بھول جانے لگا دل تشکر کے جشن میں مضطر ! فرط لذت سے جھوم جانے لگا