اشکوں کے چراغ — Page 151
151 پھر مجھے اندلس بلانے لگا میں بھری کشتیاں جلانے لگا گھل رہے ہیں قفس کے دروازے کون آیا ہے، کون جانے لگا اپنی طاقت کے بل پہ اک ناداں ہم فقیروں کو آزمانے لگا پہلے پوچھا ہمارا نام پتا پھر ہمیں گالیاں سنانے لگا ہم نے اُس کو پیام زیست دیا وہ ہمیں موت سے ڈرانے لگا اس کو چین آ سکا نہ کرسی میں سر دار مسکرانے لگا اس نے گل کر دیے چراغ تو میں اشک در اشک جھلملانے لگا