اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 138 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 138

138 تم عہد کے حالات رقم کیوں نہیں کرتے تصویر کے ٹکڑوں کو بہم کیوں نہیں کرتے چہروں کے کھنڈر بھی ہیں بہت دید کے قابل سیران کی بھی دو چار قدم کیوں نہیں کرتے تم کس لیے معیار کی سولی پہ چڑھے ہو دانا ہو تو معیار کو کم کیوں نہیں کرتے کیوں چھوڑ نہیں دیتے ہمیں حال پہ اپنے اے اہل کرم! اتنا کرم کیوں نہیں کرتے کیوں اتنے خداؤں کی پرستش میں لگے ہو سر ایک کی دہلیز پر خم کیوں نہیں کرتے صحرائے تحیر میں کھڑے سوچ رہے ہو رم خوردہ ہو تم لوگ تو رم کیوں نہیں کرتے میں بھی تو حسین ابن علی کا ہوں ثنا خواں سر میرا سرِ عام قلم کیوں نہیں کرتے دم توڑ نہ دے آپ کا بیمار محبت عیسی ہو تو بیمار پر دم کیوں نہیں کرتے حیراں ہیں صنم خانے بھی اس بات پہ مضطر ! جو کہتے ہیں وہ بات صنم کیوں نہیں کرتے