اشکوں کے چراغ — Page 139
139 وہ بے ادب حدود سے باہر نکل گیا سورج کو اس نے ٹوکنا چاہا تھا جل گیا میرے لیے جلائی تھی اس نے چتا مگر شعلے ہوئے بلند تو موسم بدل گیا میں سنگ رہگزر تھا اکیلا پڑا رہا طوفاں مرے قریب سے ہو کر نکل گیا دھرتی کو کھا کے ساحلوں کو چاٹتا ہوا نفرت کا سانپ کتنے سمندر نگل گیا کس طرح اپنے آپ سے لڑتا میں چومکھی غصہ کیا جو ضبط تو آنسو نکل گیا نکلے تھے لوگ عہد کا یوسف خریدنے بازار میں گئے تو ارادہ بدل گیا ایوانِ شہر یار میں پھسلن تھی اس قدر جو شخص بھی قریب سے گزرا پھسل گیا