اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 137 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 137

137 اندرا آنکھیں ، باہر آ ، باہر آنکھیں جاگ رہی ہیں گھر گھر آنکھیں بھیگ گیا صحرا کا سینہ برسیں سوکھے امبر آنکھیں جانے والے کب آئیں گے پوچھتی ہیں یہ اکثر آنکھیں ان کو بینائی بھی دے دے آیا ہوں میں لے کر آنکھیں حیرت ہے اس اندھیارے میں دیکھ رہی ہیں کیونکر آنکھیں عہد کے ماتھے پر اُگ آئیں کیسی کیسی بنجر آنکھیں آوازوں پر چسپاں کر دو لفظوں کی بے منظر آنکھیں رہ چلتوں کو تکتے تکتے جاتی ہیں پتھر آنکھیں ہو ٹوٹ رہا ہے عہد کا انساں دل دتی ، امرتسر آنکھیں مضطر سے ملنے آئی ہیں کیسی کیسی کافر آنکھیں