اشکوں کے چراغ — Page xiii
رات پھر آئی امتحاں کی طرح 538 ہنجواں دی فصل پچھیتی اے رت بدلی ، سب ماند پڑے ہیں غم کے کاروبار 539 گولی آں میں تیرے دردی جسم زخمی ہے اور گیلے پر 540 ناں تیرے کجھ ہتھ ، ناں پہلے اے خطیب خوش بیاں ! آ دیکھ شانِ امتیاز 541 وے توں کول کھلوندیاں جھک گیا سنائی دے ہے یوں پائل کی آواز 543 آکھاں وی تے ڈھولناں! خواہشوں نے گھڑی ہیں تصویریں 544 سچ آکھاں تاں بھانبڑ نیچے گھڑی دو گھڑی تو بھی رولے میاں! 545 چناں کیتی اے اجیہی گل وے 546 وگ وگ وے جھناں دیا پا نیاں ! آرزو کے اسیر شہزادو! بے نواؤں کے یار! آ جاؤ 563 564 565 566 567 568 569 571 547 آگے آگ پچھے پر چھانواں، کدھر جانواں 573 گناہ گارہوں مولیٰ ! مرے گناہ نہ دیکھ 548 ننگے پنڈے چاننی گئی بگا نے پنڈ 549 تھک گیا سورج چلدا چلدا یاد کی مے ہے اور پی سی ہے ان آنکھوں میں جو ہلکی سی لالی ہے 550 اضافه ایڈیشن سوم وہ بے اصول اگر با اصول ہو جائے 551 تری آنکھوں میں عیاری بہت ہے ایسا نادان تو دیکھا نہ سنا تھا پہلے 552 ایک ماڑا، ایک تگڑا چوک میں اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی فارسی اے کہ تو بندہ خدا شده ای دلم از آرزو بیگانه کردید پنجابی اکھاں دی رکھوالی رکھ ٹردا جاویں سدے ہتھ 555 جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے 556 یہ جو صحرا میں گل کھلے ہیں میاں چناں ! وے تیری چانی ، تاریا ! وے تیری لو 561 قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے سرحد امتحاں سے گزرتے ہوئے 559 برائی زمین و زماں میں نہیں ہے 560 حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا 575 577 579 581 584 585 587 588 590 592 594 596