اشکوں کے چراغ — Page xiv
11 میں پہلے دل کی دیواروں کو دھولوں 599 وہ میری ماں ہے اسے اس یقیں سے ملتا ہوں 614 تو اپنے عہد کا مسند نشیں ہے 601 خدا کے واسطے آہستہ بولو جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے 603 ہجر کی رات دن ہے فرقت کا جب اس نے رخ سے نقاب الٹا 605 جڑیں گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں کچھ تو کرم فرماؤناں 606 نہیں آنسو ہی چشم تر سے آگے اے شور طلب اے آخر شب اے دیدہ نم اے ابر کرم 607 کیا ہمیں آپ بھی سرکار نہیں چاہتے ہیں دلِ ناداں ابھی زندہ بہت ہے رقص شیطاں ہوا تھا پہلے بھی 608 نہ اور جب انتظاراتھا 609 حرص و ہوا دا اڑیل گھوڑا محروم ہو نہ جاؤ کہیں اس ثواب سے 610 جیون جو گیا ٹھن پر ا گا دُکھاں دا 611 متفرق اشعار اجنبی آشنا نہ ہو جائے ہم نے مانا بہت بڑے بھی ہو 612 دیدہ نمناک کا تازہ شمارہ دیکھنا آہٹوں کا ریلا ہے 613 615 616 617 618 620 621 622 624 625 629