اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 77 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 77

77 بے وفا سے وفا طلب کی ہے تم نے جو بات کی عجب کی ہے یہ شکایت جو زیر لب کی ہے ہم نے اک بات بے سبب کی ہے روز اوّل سے کرتے آئے ہیں یہ گزارش جو ہم نے اب کی ہے آج کا دن طویل تھا کتنا آج برسوں کے بعد شب کی ہے گھر میں بیٹھے رہو خدا کے لیے شہر میں تیرگی غضب کی ہے رنگ لا کر رہے گی بالآخر جو صدا ہم نے زیر لب کی ہے کون ہے جو نہیں اسیر اس کا عشق تقصیر ہے تو سب کی ہے