اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 76 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 76

76 آج پھر آسمان بولا ہے عشق پھر کامیاب سا کچھ ہے ہم فقیروں کا، ہم اسیروں کا جواب الجواب سا کچھ ہے لفظ لفظ آسماں سے اترا ہے جو حسن خطاب سا کچھ ہے ہو رہا ہے حریف شرمندہ معترض لاجواب سا کچھ ہے دشمن جاں سے زیر لب ہی سہی اک سوال و جواب سا کچھ ہے آسماں سے برس رہی ہے آگ ایک عالم کباب سا کچھ ہے تم نے کابل میں جو کیا تھا ستم اس ستم کا حساب سا کچھ ہے تم نے کی تھی جو التجا مضطر ! اس کا یہ استجاب سا کچھ ہے