اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 78 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 78

78 اس کی آواز کے گلے لگ کر اپنی آواز بھی طلب کی ہے اس کی کس کس ادا کا ذکر کریں اس کی ہر اک ادا غضب کی ہے ذکر ہے تو کسی کے قد کا ہے گفتگو ہے تو چشم و لب کی ہے وہی محبوب ہے، وہی مقصور بات کی ہے اسی کی جب کی ہے جب بھی چاہا اسی کو چاہا ہے اک یہی بات ہم میں ڈھب کی ہے وہی ہو گا جو اس کو ہے منظور حمد۔۔۔ضرورت شعری یعنی مرضی جو میرے رب کی ہے کاش سب کو نصیب ہو جائے موت جو ہم نے منتخبجے کی ہے تم بھی مضطر ! اٹھو کہ یار نے آج جسم مانگا ہے، جاں طلب کی ہے