اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 75 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 75

75 شرم سی کچھ ، حجاب سا کچھ ہے قرب بھی بے حساب سا کچھ ہے ماه سا، ماہتاب سا کچھ ہے ہو بہو آنجناب سا کچھ ہے مسکراتا ہوا ، حسین و ایک چہرہ گلاب سا کچھ جمیل ہے کو دیکھا تو یوں لگا جیسے عشق کارِ ثواب سا کچھ ہے اس میں آنکھوں کا کچھ قصور نہیں حسن خود بے نقاب سا کچھ ہے اس نے دیکھا نہ ہو رُخِ انور آتنه آفتاب سا کچھ کچھ ہے اکیلے نہیں ہیں کرم سفر ہم آسماں ہمرکاب سا کچھ ہے کون شائستہ صلیب ہے آج عرش پر انتخاب سا کچھ ہے