اشکوں کے چراغ — Page 74
74 اے قدرتِ ثانیہ کے مظہر ! تو کتنا حسیں ہے، خوبرو ہے اللہ کے اور رسول کے بعد واللہ کہ آج تو ہی تو ہے سرشار ہے جو ہے تیرا خادم شرمندہ ہے جو ترا عدد ہے خاموش! مقام ہے ادب کا آقا مرا محو گفتگو ہے سرشار ہوں پی کے میں بھی مضطر ! پھر سے وہی جام ہے، سبو ہے