اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 56 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 56

ادی 56 56 موت ہے نہ حیات ہے یارو! ایک مولیٰ کی ذات ہے یارو! ہاتھ میں جس کے ہاتھ ہے یارو! وہ بڑا خوش صفات ہے یارو! جا رہی ہے جو شہر جاناں کو یہی راہ نجات ہے یارو! آج بھی دشت کے مسافر پر بند نہر فرات ہے یارو! چن لیا اس نے ہم فقیروں کو اپنی اپنی برات ہے یارو!“ پھر وہی دن ہیں اور وہی راتیں پھر وہی التفات ہے یارو! آج کا دن ہے وصلِ یار کا دن آج کی رات رات ہے یارو! چھٹنے والے ہیں ظلم کے بادل ایک دو دن کی بات ہے یارو! ہر قدم احتیاط سے رکھنا ہر قدم پل صراط ہے یارو! کس لیے موت سے ڈراتے ہو موت بھی تو حیات ہے یارو! اپنے بیگانے سب خلاف سہی یار تو اپنے ساتھ ہے یارو! عشق کی جیت ہونے والی ہے عقل کی بازی مات ہے یارو! عقل کیا زیست کی خبر دے گی یہ تو خود بے ثبات ہے یارو! آؤ مضطر کا ذکر خیر کریں مر کے بھی جو حیات ہے یارو!