اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 55 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 55

55 بات سنتے نہ بات کرتے ہو کس قدر احتیاط کرتے ہو سچ کہو! انتظار کس کا ہے صبح کرتے نہ رات کرتے ہو عقل کے بھی ہو زر خرید غلام عشق بھی ساتھ ساتھ کرتے ہو ہاتھ جاناں کے ہاتھ میں دے کر کیوں غم پل صراط کرتے ہو چاہتے کیا ہو؟ کھل کے بات کرو کیوں اشاروں میں بات کرتے ہو اب وہ پہلی سی نوک جھونک نہیں نہ وہ التفات کرتے ہو پہلے اس کا جواز ڈھونڈتے ہو پھر کوئی واردات کرتے ہو جب بھی کرتے ہو قتل مضطر کا نہر فرات کرتے ہو