اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 57 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 57

57 کانٹا سا کھڑا ہے کوئی بن میں کاٹو تو لہو نہیں بدن میں آہستہ خرام بلکه مخرام پھولوں کے ہیں مقبرے چمن میں سولی سوار ہے زمانہ گل ہیں کہ مگن ہیں اپنے من میں پرچم ہے یہ دل کی مملکت کا تیشہ نہیں دست کو بکن میں آنو کو سجا لیا مژہ پر پتھر کو پرو لیا کرن میں صدیوں کی صلیب بھی اٹھا لی لمحوں کو لپیٹ کر کفن میں چہروں کی لیے اجاڑ چادر آتے ہیں اسیر انجمن میں