تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page viii
iv بسم اللہ الرحمن الرحیم دیباچہ (طبع ثانی ) سید نا حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کے روحانی فرزند عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا آپ کا مشن دین حق کا احیاء تھا۔اس لئے آپ نے اپنے آخرین کے مصداق خدام کو بھی انہی الہی برکات کی خوشخبری دی جود و ر اول میں انصار دین کو عطا ہوئیں۔اسی لئے آپ نے فرمایا: ے مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا سورہ جمعہ کی آیت وَ آخَرِینَ مِنْهُمُ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔اللہ جل شانہ نے اس آخری گروہ کو مِنْهُمُ کے لفظ سے پکارا تا یہ اشارہ کرے کہ معائنہ معجزات میں وہ بھی صحابہ کے رنگ میں ہی ہیں۔سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بد زبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اُٹھا رہے ہیں جیسا کی صحابہ نے اُٹھایا۔وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے اُن میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں۔جیسا کی صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی ہیں اور الہام الہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یا درکھتے اور دلوں کے نرم اور کچی تقویٰ پر قدم ماررہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر