تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 45 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 45

45 حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : مولوی صاحب جلسہ اعظم مذاہب عالم میں بھی شریک ہوئے تھے۔آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے حضرت مولوی محمد عزیز الدین بھی تھے۔حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام تحفہ قیصریہ، سراج منیر، کتاب البریہ اور ملفوظات جلد چہارم جلسہ سالانہ کے شرکاء ، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی، چندہ دہندگان اور پرامن جماعت میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وفات : ۲ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو آپ پر فالج کا حملہ ہوا جس سے آپ وفات پا گئے۔آپ کی تدفین مکیریاں ضلع ہوشیار پور میں ہوئی۔اولاد : آپ کی چھ بیٹیاں تھیں اور کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا عطا کیا۔( حضرت مولوی عزیز الدین صاحب) اور لمبی عمر پائی۔حضرت مولوی عزیز الدین صاحب کی ایک بیٹی بھی صحابیہ تھیں۔مولانا حکیم دین محمد صاحب قادیان حضرت مولوی وزیر الدین صاحب کے پوتے ہیں۔مکرم مولانا محمد شریف صاحب سابق بلاد عر بیہ، گیمبیا، مکرم مولانا محمد صدیق صاحب سابق لائبریرین اور ، مولا نانسیم سیفی صاحب سابق مبلغ مغربی افریقہ وسابق ایڈیٹر الفضل آپ کے خاندان سے ہیں۔ماخذ : (۱) براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ (۳) تحفه قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۶) ملفوظات جلد چہارم (۷) غیر مطبوعہ حالات مرقومه حکیم دین محمد صاحب نائب ناظم وقف جدید قادیان (۸) الفضل ۲ جولائی ۱۹۶۳ء (۹) الفضل ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۷ء۔☆ -۱۵۔حضرت منشی گوہر علی صاحب جالندھر بیعت : ۱۸/جنوری ۱۸۹۰ء تعارف و بیعت: حضرت منشی گوہر علی رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام جہانگیر خاں افغان تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب دوسری بار کپورتھلہ تشریف لے گئے تو کپورتھلہ میں تین دن قیام حضرت منشی گوہر علی صاحب افسر ڈاک خانہ کے مکان پر رہا۔( ابتداء آپ سب پوسٹ ماسٹر کپورتھلہ متعین ہوئے تھے ) حضرت اقدس سے آپ کا تعلق حضرت چوہدری رستم علی صاحب کے ذریعہ ہوا تھا۔آپ نے ۱۸ جنوری ۱۸۹۰ء میں بیعت کی۔آپ کی بیعت کا نمبر ۱۶۱ ہے۔جہاں آپ کا نام میاں علی گوہر درج ہے۔قادیان کی زیارت اور حضرت اقدس کی شفقت : حضرت منشی ظفر احمد کپورتھلوی فرماتے ہیں : «منشی گوہر علی صاحب کپورتھلہ میں ڈاک خانہ میں ملازم تھے۔ساڑھے تین روپے ان کی پینشن ہوئی۔گزارہ ان کا بہت