تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 46
46 تنگ تھاوہ جالندھر اپنے مسکن پر چلے گئے انہوں نے مجھے خط لکھا کہ جب تم قادیان جاؤ تو مجھے ساتھ لیتے جانا وہ بڑے مخلص آدمی تھے چنانچہ میں جب قادیان جانے لگا تو ان کو ساتھ لینے کے لئے جالندھر چلا گیا وہ بہت متواضع آدمی تھے میرے لئے انہوں نے پر تکلف کھانا پکوایا اور مجھے یہ پتہ لگا کہ انہوں نے کوئی برتن بیچ کر دعوت کا سامان کیا ہے۔میں نے منشی علی گوہر کا ٹکٹ خود ہی خرید لیا تھا وہ اپنا کرایہ دینے پر اصرار کرنے لگے میں نے کہا یہ آپ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔چنانچہ دو روپے انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔آٹھ دس دن رہ کر جب ہم واپسی کے لئے اجازت لینے لگے تو حضور نے اجازت مرحمت فرمائی اورمنشی صاحب کو کہا آپ ذرا ٹھہریے پھر آپ نے دس یا پندرہ روپے منشی صاحب کو لا کر دیئے۔منشی صاحب رونے لگے اور عرض کی حضور مجھے خدمت کرنی چاہئیے یا میں حضور سے لوں۔حضرت صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا کہ یہ آپ کے دوست ہیں آپ انہیں سمجھائیں۔پھر میرے سمجھانے پر کہ ان میں برکت ہے انہوں نے لے لئے اور ہم چلے آئے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام ، تحفہ قیصریہ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں جلسہ سالانہ کے شرکاء، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی، چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر ہے۔اولاد: آپ کی اولاد میں سے مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب سالہا سال تک راج گڑھ لاہور کے صدر رہے ہیں۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۱ (۶) اصحاب احمد “ جلد دہم صفحه ۷۳ ( ۷ ) اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۱۵،۱۱۴ ☆ ،، ۱۶۔حضرت مولوی غلام علی صاحب ڈپٹی رہتاس۔جہلم بیعت: ابتدائی ایام تعارف: حضرت مولوی غلام علی رضی اللہ عنہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بندوبست رہتاس جہلم حضرت اقدس کے ابتدائی عقیدت رکھنے والوں میں سے تھے۔آپ ملازمت کے سلسلہ میں ڈچکوٹ ضلع لائکپور ( حال فیصل آباد ) میں رہے۔حضرت اقدس سے تعلق و بیعت : حضرت اقدس کی براہین احمدیہ کی تصنیف کے دوران میں آپ مظفر گڑھ شہر میں ملازم تھے جہاں آپ کا حلقہ دوستی حضرت مولوی جلال الدین صاحب ساکن پیرکوٹ ثانی حال ضلع حافظ آباد (سابق ضلع گوجرانوالہ)، حضرت قاضی غلام مرتضی صاحب اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر مظفر گڑھ ( یکے از ۳۱۳) کے