تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 44
44 الثانی) کے عقد میں آئیں۔حضرت میر عبدالسلام صاحب لندن میں مدفون ہیں۔حضرت سید عبدالجلیل شاہ صاحب تھے جن کی بیٹی سیدہ آمنہ بیگم صاحبہ محترم صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب ( ابن حضرت خلیفہ اسیح الثانی) کے عقد میں آئیں۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۶) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۷) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۸) ملفوظات جلد پنجم (۹) روزنامه الفضل قادیان ۲۳ نومبر ۱۹۱۸ء (۱۰) ماہنامہ انصار اللہ ماہ تمبر ۱۹۹۷ء (۱۱) مضمون مکرم احمد طاہر مرزا حضرت سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کی علمی خدمات از انصار اللہ مئی ۲۰۰۱ء (۱۲) مضمون تفخیذ الاذہان اکتوبر ۲۰۰۰ء (۱۳) روزنامه الفضل ربوه ۲۶ فروری ۱۹۹۹ء (۱۴) سیرت و سوانح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ☆ ۱۴۔حضرت مولوی وزیرالدین صاحب کانگڑہ بیعت : ۱۸۸۹ء۔وفات : ۲ /اکتوبر ۱۹۰۵ء تعارف و بیعت: حضرت مولوی وزیر الدین رضی اللہ عنہ کا اصل وطن مکیریاں ضلع ہوشیار پور تھا۔آپ کی بیعت ۱۸۸۹ء کی ہے۔ملازمت کے سلسلہ میں آپ ضلع کانگڑہ میں رہے۔آپ بطور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ مڈل سکول کانگڑہ میں متعین تھے۔حضرت مولوی صاحب نے کچھ عرصہ اور مینٹل کالج لاہور میں بھی تعلیم پائی۔(آپ کے ہم جماعتوں میں رائے بہادر منشی گلاب سنگھ بھی تھے جو بعد میں لاہور کے ایک مطبع کے مالک بنے۔) حضرت اقدس سے تعلق : براہین احمدیہ کے مطالعہ کے بعد حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے گئے۔حضرت اقدس نے آپ کو ملاقات کے لئے انتظار میں بیٹھے دیکھ کر فرمایا۔کیسے تشریف لائے ہیں؟ مولوی صاحب نے جواب میں حضرت اقدس کے یہ اشعار سنائے نعرہ ہائے زنم بر آب زلال پیچو مادر دواں پیئے اطفال تا مگر تشنگال بادیه با گردم آئیند زیں فغان و صلا اور زبانی کہا کہ آب زلال پینے کے لئے حاضر خدمت ہوا ہوں۔یہ اشعار سن کر حضور مسکرائے اور پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے۔چائے کا پیالہ ہاتھ میں لئے باہر تشریف لائے اور مولوی صاحب کو یہ پیالہ عنایت فرمایا۔مولوی صاحب نے بصد شوق یہ پیالہ پی لیا۔مولوی صاحب اکثر اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ حضرت اقدس نے بظاہر چائے پلائی مگر وہ چائے نہیں تھی عشق دین تھا۔