تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 238 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 238

238 اعتراض کیا کہ مرزائی کی اتنی تعظیم کیوں؟ تو وہ جواب دیتے کہ علم کی قدر ہے“ آپ کے پوتے حافظ مبارک احمد صاحب سابق پروفیسر جامعہ احمد یہ بیان کرتے ہیں کہ : حافظ نور محمد صاحب سکنہ فیض اللہ چک والے نے بیان کیا کہ آپ کے دادا مولوی خان ملک صاحب پہلے پہلے جب حضرت مسیح موعود کے پاس قادیان تشریف لائے تھے تو میں اس وقت یہاں موجود تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سب سے پہلے یہ عرض کیا کہ میں آپ کو رسول کریم ﷺ کا السلام علیکم پہنچاتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کا سلام مجھے پہنچایا ہے۔حافظ نور محمد صاحب کہتے تھے کہ میں نے مولوی صاحب سے مشکوۃ شریف پڑھی تھی۔رجسٹر روایات نمبرا اروایات مولوی خان ملک صاحب غیر مطبوعہ ) حضرت مولوی صاحب کے پوتے حافظ مبارک احمد صاحب اپنے والد کی روایت بیان کرتے ہیں کہ: حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جب خلافت اولی کے زمانہ میں چکوال گئے تھے تو اس وقت مولوی خاں ملک صاحب ان کی خاص زیارت کے لئے باوجود پیری اور ضعف کے حاضر ہوئے اور ایک مصلی نذر میں پیش کیا۔بعد میں پوچھا گیا کہ آپ نے مُصلی کیوں خاص طور پر پیش کیا ہے۔تو فرمانے لگے کہ یہی تو مصلی کا مالک ہے اس کے سامنے مُصلی کی نذرانہ پیش کی جائے تو کس کے سامنے کی جائے۔مطلب ان کا یہ تھا کہ یہ خلافت کے مستحق ہیں۔اس سفر میں حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی حضرت صاحب کے ساتھ تھے اور ایک روپیہ جو مولوی صاحب نے حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں پیش کیا تھا وہ بھی حضرت نے قبول فرما لیا تھا۔حافظ روشن علی صاحب نے ایک روپیہ مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ ہم آپ کے شاگرد ہیں۔حافظ صاحب نے اس موقعہ پر فرمایا کہ مولوی خاں ملک صاحب اپنی شہرت کے لحاظ سے تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں بھی مشہور تھے اور اکثر علماء ان کے شاگرد تھے۔لیکن باوجود اس عزت اور شہرت کے نہایت سادہ مزاج اور صوفی منش تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کوئی سخت لفظ نہیں سن سکتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جلال پور شریف والے پیر مظفر شاہ صاحب نے ان کو اپنے صاحبزادوں کی تعلیم کے لئے بلایا لیکن حضرت مسیح موعود کی شان میں ایک سخت کلمہ کہا اس پر آپ نے فرمایا کہ میں آپ کے بچوں کو پڑھانے کے لئے تیار نہیں۔مولوی صاحب کی وفات حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے آخری زمانہ میں ہوئی ہے۔“ حضرت خلیفہ اول ان کی خاص عزت کیا کرتے تھے۔اس کی وجہ مولوی خاں ما لک صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب مجھ سے طالب علمی کے زمانہ میں کہا کرتے تھے کہ آپ دعا کریں کہ میں بہت بڑا آدمی بن جاؤں۔بڑا آدمی ہونے سے مراد دین میں ترقی کرنا تھا۔فرماتے تھے کہ میں نے حضرت مولوی صاحب کیلئے دعا کی۔قبولیت کے آثار دیکھ کر اس وقت ہی کہا تھا کہ آپ بڑے دینی عالم بن جائیں گے۔( محولہ بالا ایضاً)