تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 239 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 239

239 وفات : آپ اپنا وطن چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور قادیان میں ۱۹۱۳ء میں ایک سو دس سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔اولاد : آپ کے فرزند مولوی عبدالرحمن صاحب تھے ( بیعت ۱۸۹۴ء۔وفات ۱۹۴۰ء) مخدوم فیملی (میانی و گوگھیاٹ ) بھیرہ کے اتالیق تھے۔قرآن وحدیث اور فقہ کے عالم تھے۔جامعہ احمدیہ میں مولف کے استاذ الحدیث حافظ مبارک احمد صاحب مرحوم ( ولد مولوی عبد الرحمن صاحب) حضرت مولوی خان ملک کے پوتے تھے جو حضرت حافظ روشن علی کے داماد بنے۔آپ کی پوتی بخت با نو اہلیہ الیاس بیوال کے بیٹے افضل چکوال میں ہیں۔ماخذ: (۱) ضمیمه انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) بھیرہ کی تاریخ احمدیت صفحه ۵۹-۶۰ (۵) رجسٹر روایات نمبرا اروایات مولوی خان ملک صاحب۔☆ ۱۹۸۔حضرت میاں اللہ بخش صاحب علاقہ بند - امرتسر ولادت ۱۸۵۴ء۔بیعت ۱۸۹۳ء۔وفات اواخر ۱۹۲۰ء تعارف: حضرت میاں اللہ بخش رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام میاں محمد بخش صاحب تھا۔آپ کی ولادت سال ۱۸۵۴ء کی ہے۔آپ کا اور آپ کے والد صاحب کا پیشہ مہاراجہ کپورتھلہ کے ہاں ہاتھیوں کے جھول اور فوج کے کمر بند تیار کرنا تھا۔اس کے علاوہ زیورات میں دھاگہ ڈالنا، زیورات کی جالیاں اور جھالریں بنانا بھی تھا۔آپ علاقہ بندی یا پٹوار کا کام بھی کرتے تھے۔ابتداء میں آپ لاہور میں حکیم محمد حسین صاحب قریشی کے دادا با با محمد چٹو کے شاگرد ہوئے جو یہ کام کرتے تھے۔بعد میں امرتسر میں آخر عمر تک یہ کام کرتے رہے۔بیعت : بابا محمد چٹو کے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر بھی ہوتا رہتا تھا مگر ان کا انجام مذہب اہل قرآن پر ہوا جبکہ بابا صاحب کی اولا دا اور میاں اللہ بخش صاحب احمدیت کی آغوش میں آگئے۔بعد میں حضرت مرزا قطب الدین مس گڑ کے ساتھ جنگ مقدس کے مشہور مباحثہ میں موجودر ہے اور اس دوران احمدیت قبول کر لی۔دینی خدمت ہر سال قادیان کے غرباء کے لئے کپڑے بھجوایا کرتے تھے۔مؤرخ احمدیت کے مطابق آپ آخری عمر میں قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔وفات : آپ نے ۱۹۲۰ء میں وفات پائی اور مؤلف اصحاب احمد نے آپ کا امرتسر میں بیمار ہونا اور گورداسپور میں وفات پانا ، آپ کے داماد ملک مولا بخش صاحب کے حوالے سے لکھا ہے اور گورداسپور میں ہی تدفین لکھی ہے۔اس طرح تاریخ وفات بھی مزید تحقیق طلب ہے۔