تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 73
73 نمبر ۲ میں تدفین ہوئی تھی۔اولاد آپ کے فرزند حضرت بشیر احمد اور حضرت مولانا جلال الدین شمس تھے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس ( حضرت مصلح الموعود نے ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کو خالد احمدیت“ کا خطاب دیا تھا۔) مبلغ و ناظر اصلاح وارشاد مرکز یہ تھے۔جو خود بھی صحابی تھے اور سلسلہ کے نہایت جلیل القدر متبحر عالم تھے۔ان کے بعد ان کی اولاد کو بھی خدمت سلسلہ کی خاص توفیق ملی۔آپ کے بیٹے مکرم منیر الدین شمس صاحب مربی سلسلہ احمدیہ بلاد عر بید و انگلستان رہے۔اور اب ایڈیشنل وکیل الاشاعت لندن ہیں۔علاوہ ازیں ان کے بیٹے مکرم ڈاکٹر صلاح الدین شمس صاحب مرحوم اور مکرم فلاح الدین شمس صاحب امریکہ میں ہیں۔جو Muslim Sunrise کے ایڈیٹر ہیں۔ماخذ : (۱) نشان آسمانی روحانی خزائن جلد ۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد۱۱ (۱) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۱ (۷) روزنامه الفضل یکم مئی ۱۹۸۰ء و ۸ ستمبر ۲۰۰۰ء(۸) مجموعه اشتہارات (۹) تاریخ احمدیت جلد ۲ (۱۰) تاریخ نجنہ اماءاللہ۔☆ ۳۳۔حضرت میاں عبد العزیز پٹواری سیکھواں گورداسپور مع اہلبیت بیعت: ۱۸۹۲ء۔وفات: ۱اراپریل ۱۹۴۶ء تعارف: حضرت میاں عبد العزیز رضی اللہ عنہ او جلہ ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔۱۸۹۱ء میں موضع سیکھواں میں تبدیلی کروائی۔سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۰۳ سے آپ کے حالات پر روشنی پڑتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے جب ۳۱۳ صحابہ کی فہرست مرتب کی تو سیکھواں کے برادران میاں امام الدین صاحب، میاں جمال الدین صاحب اور میاں خیر الدین صاحبان مع منشی عبدالعزیز حضرت اقدس سے معلوم کرنے کے لئے حاضر ہوئے کہ کیا ان کے نام اس فہرست میں شامل ہوئے ہیں تو حضرت نے فرمایا کہ آپ کے نام پہلے ہی درج کئے گئے ہیں۔بیعت : سیکھواں میں میاں امام الدین اور میاں خیر الدین سے واقفیت ہونے سے پہلے ازالہ اوہام پڑھی جس سے حضرت اقدس کی صداقت میخ کی طرح دل میں گڑ گئی اور ۱۸۹۲ء میں شرف بیعت حاصل کیا۔مخلصانہ قربانی اگست ۱۸۹۸ء میں حضرت اقدس نے حضرت میاں صاحب کے بارے میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک علم عطا کیا ہے کہ ایسی ملازمتوں میں خدا تعالیٰ نے انہیں صاف رکھا اور صالح بنایا حضرت اقدس فرماتے ہیں: