تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 72 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 72

72 ☆ ۳۲۔حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھواں گورداسپور معہ اہلبیت بیعت ۲۳ نومبر ۱۸۸۹ء۔وفات : ۸ مئی ۱۹۴۱ء تعارف : حضرت میاں امام الدین رضی اللہ عنہ موضع سکھواں ضلع گورداسپور سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام محمد صدیق صاحب وائیں کشمیری تھا۔(حضرت میاں جمال الدین صاحب اور حضرت میاں خیر الدین صاحب۔آپکے دو بھائیوں کا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔) بیعت : آپ اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ حضرت اقدس کے پاس آئے اور اپنے تعلق عقیدت سے حضرت میاں جمال الدین صاحب اور حضرت میاں خیر الدین صاحب کے ساتھ ہی ۲۳ نومبر ۱۸۸۹ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۱۵۱ نمبر پر ہے۔آپ کی اہلیہ محترمہ حسین بی بی صاحبہ بھی ۳۱۳ کی فہرست میں آپ کے ساتھ شامل ہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آسمانی فیصلہ اور آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء و۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والے احباب میں نام درج ہے۔تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی جلسہ میں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کی فہرست میں نام درج ہے۔گورداسپور میں مقدمہ کرم دین کے موقع پر حضرت اقدس کی اقتداء میں نماز ظہر وعصر ادا کرنے والے احباب میں آپ کا ذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا ذکر کم معاش والے اور مالی قربانی کرنے والوں میں ہے۔دینی خدمات : حضرت اقدس نے آپ کی مخلصانہ مالی قربانی اور خدمت کا بھی تذکرہ فرمایا۔آپ نے ضمیمہ اشتہار الانصار ۱۴ را کتوبر ۱۸۹۹ء میں فرمایا: ”میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپور اور ان کے دو برادران حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر دین نے پچاس روپے دئے۔جولائی ۱۹۰۰ ء میں ان بھائیوں اور ان کے والد محمد صدیق صاحب چاروں کی طرف سے ایک سو روپیہ منظور فرما کر فہرست برائے چندہ تعمیر منارة اسبیح میں ان کے نام نمبر ۸۴ پر درج فرمائے۔مقدمہ کے دوران حضرت اقدس کی خدمت جب گورداسپور میں مولوی کرم دین صاحب سکنہ بھیں ( ضلع جہلم) کے مقدمہ کے سلسلہ میں عدالت میں پیشیاں پے در پے ہوتی رہیں اور یہ مقدمہ دوسال چلتا رہا۔اُس دوران حضرت میاں امام الدین صاحب نے گورداسپور میں ایک مکان کرایہ پر لیا اور وہیں قیام کیا۔اور حضرت اقدس کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔وفات : آپ کی وفات ۸ مئی ۱۹۴۱ء کو ہوئی۔آپ کی وصیت نمبر ۹۵ ہے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں قطعہ نمبر ۲ حصہ