تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 186
186 وفات مسیح کا مسئلہ کہاں سے لیا ہے؟ فرمایا قرآن شریف حدیث اور علمائے ربانی کے اقوال سے۔مولوی صاحب کے دریافت کرنے پر دو آیات دکھائیں اور بتایا کہ وفی اور توقی الگ الگ باب سے ہیں آپ غور کریں۔مولوی صاحب دو چار منٹ سوچ کر کہنے لگے صاف فرمائیے۔آپ نے جو فرمایا وہ صحیح ہے قرآن مجید آپ کے ساتھ ہے۔حضورڑ نے پوچھا جب قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے تو آپ کس کے ساتھ ہیں۔اس پر مولوی صاحب کے آنسو جاری ہو گئے اور ان کی ہچکی بندھ گئی اور انہوں نے عرض کی کہ یہ خطا کار بھی حضور کے ساتھ ہے۔مولوی صاحب حضرت اقدس کا چہرہ دیکھتے رہتے۔حضرت اقدس نے سورۃ الزلزال کی تفسیر سے کچھ فرمایا تو وجد میں آگئے۔بیعت: آپ نے ۲۹ مئی ۱۸۹۱ء میں بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی کے مطابق آپ کی بیعت ۲۳۰ نمبر پر ہے۔اخلاص و محبت میں ترقی : بیعت کے بعد مولوی صاحب کو ایک مرتبہ خط آیا کہ جلد آجائیں ورنہ ملازمت جاتی رہے گی۔لیکن مولوی صاحب نے کہا کہ بیعت میں شرط دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی ہے۔مجھے ملازمت کی پرواہ نہیں۔ایک روز اس کا ذکر ہونے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خود ملازمت ترک کرنا ناشکری ہے۔آپ کو ملا زمت پر ضرور چلے جانا چاہئیے چنانچہ دوبارہ بیعت کر کے مجبور روانہ ہو گئے۔لیکن پھر ہنستے ہوئے واپس آگئے کہ ریل گاڑی کے آنے میں وقت تھا۔میں نے کہا کہ جتنی دیر اسٹیشن پر لگے گی اتنی دیر حضرت صاحب کی صحبت میں رہوں تو بہتر ہے۔یہ صحبت کہاں میسر ہے۔حضور نے فرمایا۔جزاک اللہ۔یہ خیال بہت اچھا ہے۔اس میں کچھ حکمت الہی ہے۔یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دوسرا خط آیا کہ اپنی ملازمت پر حاضر ہو جائیں یا درخواست رخصت بھیج دیں میں کوشش کر کے رخصت دلوا دوں گا۔حضرت اقدس نے فرمایا ریل کے نہ ملنے میں یہ حکمت الہی تھی۔حضور کے ارشاد پر مولوی صاحب نے رخصت کی درخواست دے دی جو منظور ہوگئی اور مولوی صاحب کو بہت روز تک حضرت اقدس کی خدمت میں رہنے اور فیض صحبت حاصل کرنے کا موقع ملات حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آپ کا ذکر ازالہ اوہام میں مخلصین کے طور پر ہے۔(۷) تھی فی اللہ مولوی عبد الغنی صاحب معروف مولوی غلام نبی خوشابی دقیق فہم اور حقیقت شناس ہیں اور علوم عربیہ تازہ بتازہ ان کے سینہ میں موجود ہیں اوائل میں مولوی صاحب موصوف سخت مخالف الرائے تھے۔جب ان کو اس بات کی خبر پہنچی کہ یہ عاجز مسیح موعود ہونے کا دعوی کر رہا ہے اور مسیح ابن مریم کی نسبت وفات کا قائل ہے۔تب مولوی صاحب میں پورا نے خیالات کے جذبہ سے ایک جوش پیدا ہوا اور ایک عام اشتہار دیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد اس شخص کے رڈ میں ہم وعظ کریں گے۔شہر لودھیانہ کے صدہا آدمی وعظ کے وقت