تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 185
185 ☆ ۱۳۴۔حضرت مولوی غلام نبی صاحب مرحوم خوشاب شاہ پور بیعت : ۲۹ مئی ۱۸۹۱ء۔وفات : ۱۸۹۷ء سے قبل تعارف: حضرت مولوی غلام نبی رضی اللہ عنہ موضع ناڑی نز دیلی ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔(اب یہ موضع ضلع خوشاب میں ہے۔ناقل ) آپ کا نام مولوی عبدالغنی تھا مگر آپ مولوی غلام نبی کے نام سے معروف ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام سید احمد صاحب تھا۔آپ نے دوشادیاں کیں اور دونوں بیویوں سے اللہ تعالیٰ نے اولا د عطا کی۔ناڑی سے قریب قصبہ نلی آپ کے خاندان ہی کی وجہ سے مشہور تھا۔آپ کے بزرگوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن پاک کے نسخے کچھ عرصہ پہلے تک نلی میں موجود تھے۔حضرت اقدس کے دعوی کی تحقیق اور بیعت : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قیام مئی ۱۸۹۱ء میں لدھیانہ میں تھا۔مولوی صاحب نے حضرت اقدس کا ذکر سن رکھا تھا اور اپنے علمی زعم میں انہی ایام میں لدھیانہ چلے آئے۔مولوی صاحب ہر گلی میں تھوڑی تھوڑی دیر آپ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے۔ایک روز وہ اس کو چہ میں بھی آگئے جس میں حضرت اقدس کا قیام تھا۔اس مکان کی بیٹھک سڑک کے کنارہ پر تھی اور زنانہ حصہ مکان کے عقب میں تھا اور زنانہ حصہ سے بیٹھک کے اندر جانے کے لئے سڑک پر سے گزرنا ہوتا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ مولوی صاحب اس کو چہ میں باتیں کر رہے تھے۔حضور عقبی حصہ مکان سے بیٹھک کی طرف تشریف لا رہے تھے۔جب مولوی صاحب نے برکات انوار الہیہ سے روشن حضور کے روئے مبارک کو دیکھا تو تاب نہ لا سکے اور ایسا معجزانہ تصرف الہی ہوا کہ یا تو وہ حضور کے برخلاف کئی روز سے بول رہے تھے یا حضور کا مبارک چہرہ دیکھتے ہی فوراً حضور پُر نور کی طرف لپکے اور تقریر وغیرہ سب بھول گئے۔حضور نے مصافحہ کے لئے اپنا ہاتھ دے دیا۔وہ حضور کا ہاتھ پکڑے حضور کے ساتھ اندر بیٹھک میں داخل ہو گئے اور پاس بیٹھ گئے اور عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔آپ کے تمام ساتھی باہر گلی میں کھڑے اس ماجرے کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے اور باہر کھڑے انتظار کرتے رہے مگر مولوی صاحب تھے کہ اندر سے باہر نہ آتے تھے۔ادھر مولوی صاحب تائب ہو کر ایمان لے آئے اور ان کی درخواست پر حضور اقدس نے ان کی بیعت قبول فرمالی۔ان کے ساتھیوں نے جو برابر باہر انتظار میں تھے مولوی صاحب کو بلانے کے لئے اندر پیغام بھیجا۔مگر یہاں سماں ہی کچھ اور تھا۔یہ علم ہونے پر ان کے تمام ساتھی مولوی صاحب کو گالیاں دیتے ہوئے منتشر ہو گئے۔حضرت اقدس سے گفتگو کی تفصیل : حضرت اقدس سے مولوی صاحب کی گفتگو کی تفصیل یہ ہے کہ انہوں نے پوچھا کہ حضرت! آپ نے